Full Naat Lyrics: Hajio Aao Shahenshah Ka Roza Dekho

نعت شریف
(حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو)
(حدائق بخشش: کلام از امام اہلسنت ،امام عشق و محبت، اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ)

Full Naat Lyrics: Hajio Aao Shahenshah Ka Roza Dekho

کچھ اس نعت شریف کے بارے میں:
اس نعت شریف میں اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بہت خوب صورت اور دلنشین انداز میں ان لوگوں کے اس باطل نظریے کا رد کیا ہے جو کہتے ہیں کہ حج کر آؤ مدینے شریف جانے کی ضرورت نہیں یا پھر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جانے کی نیت نہ کرو ،فقط مسجد نبوی میں حاضری کی نیت کرو ۔۔۔۔ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ ایک طرف خانہ کعبہ سے برکتیں ملنے کی سعادت کا ذکر کر رہے ہیں تو دوسری طرف روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شہر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والی نعمتوں اور رحمتوں کا تذکرہ فرما رہے ہیں ،کہ اہمیت دونوں جگہ کی ہے نعمتیں دونوں جگہ سے مل رہی ہیں اللہ کی رحمتیں دونوں جگہ بارش کی طرح برس رہی ہیں بلکہ مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کی برکتیں اور وہاں کی تمام نعمتیں اور رب کی وہاں تمام رحمتیں اس مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہیں تو حاجی ان کو کیسے بھول جاۓ ؟ جن کا صدقہ وہ حاجی بنا ۔ حاجی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیوں نہ جاۓ؟ جن کا صدقہ وہ مومن بنا ۔۔ غرض کہ کائنات کی ہر نعمت خواہ کہیں سے بھی مل رہی ہو وہ اس مدینے والے محبوب کی عطا اور بخشش ہے ۔

میرا اس نعت شریف کی شرح لکھنے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ میرے وہ بھائی جو آپ (اعلی خصرت) کی نعت شریف اردو کے مشکل ہونے کی بنا پر سمجھ نہیں پاتے وہ سمجھ لیں اور دوسرا آپ(اعلیحضرت) کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اک چھوٹی سے جھلک دکھلا سکوں کے آپ کتنے بڑے عاشق رسول تھے بلکہ امام عشق و محبت تھے۔
آپ حضرات کو جو لطف اعلی حضرت کی نعت کے اشعار پڑھ کر آۓ گا یقینا وہ میرے تشریح کرنے میں نہ آۓ کیونکہ کلام الامام امام الکلام ہوتا ہے

Verse 1:

حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ،

تشریح:
اے حجاج کرام! خوش نصیب ہو کہ تمہیں حج کی سعادت نصیب ہوئی تم نے بیت اللہ شریف کے انوار و تجلیات کو اپنے دامن میں سمیٹا ، اب میری بات سنو ! چلو چلو مدینہ شریف کی جانب چلو ! اس شہنشاہ ہر دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں جس نے کعبہ معظمہ کو بت خانہ سے بیت اللہ شریف و قبلہ بنایا ، اگر یہ کعبہ ہے اور یقینا کعبہ ہے تو مدینے کا تاجدار تو کعبہ کا بھی کعبہ (قبلہ) ہے۔

کعبے کا کعبہ ؟
یہاں کعبے کا کعبہ کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان و عظمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہمارے جسم کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور روح کا قبلہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات پاک ۔۔۔مطلب کیا ہوا کہ اگر دل عشق مصطفی سے خالی ہو تو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا فائدہ نہ دے گا ، کوئی عبادت قبول نہیں بلکہ ایمان کی دولت سے ہی محروم کہلاۓ گا۔
ترمذی شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوے کعبہ کو مخاطب کر کے فرمایا
“اے کعبہ تو بھی پاکیزہ تیری ہوا بھی پاکیزہ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جان ہے اللہ تعالی کے نزدیک مومن کی عزت تجھ سے کہیں ذیادہ ہے۔”

جب مومن کی عزت کعبہ شریف سے ذیادہ ہے تو جن کے صدقے مومن کو عزت ملی جن کے صدقے اور رضا سے کعبہ قبلہ بنا ان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان و عظمت اور شان عزت کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔

حضرت علامہ صفوری علیہ رحمۃ کتاب شرف المصطفی سے نقل فرماتے ہیں
“قیامت کے روز کعبہ شریف اپنے رب سے عرض کرے گا ۔ کہ الہی مجھے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کی اجازت دے ۔تو اللہ عزوجل اسے اجازت دے گا ۔ اور وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہو گا۔”

کعبہ کا قبلہ بننے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضا تھی جو اللہ نے قبول فرمائی ۔۔۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نظر کعبہ پر نہ پڑتی تو کوئی نظر بھی ادھر نہ اٹھتی ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوق الہی میں افضل و اعلی ہیں ، کعبہ بھی مخلوق ہے عرش و کرسی بھی مخلوق ہے

Verse 2:

رکن شامی سے مٹی وحشت شام غربت
اب مدینہ کو چلو صبح دلآرا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ رکن شامی (خانہ کعبہ کا شمالی کونہ) ، ٭ وحشت (ڈر، ہیبت) ، ٭ شام غربت (سفر کی رات) ، ٭ صبح دلآرا (ایسی صبح جو دل کو زینت و آرام دینے والی ہے)

تشریح:
اے خوش قسمت حاجیو! تمہارے سفر کی وحشتیں ، تکلیفیں ، کلفتیں تو دوران طواف رکن شامی کی زیارت سے ہی دور ہو چکی اگر دل کی صفائی ، پاکیزگی اور چمک چاہتے ہو اگر دل کو اللہ کے اسرارو تجلیات کی جلوہ گاہ بنانا چاہتے ہو تو چلو مدینہ شریف کی سہانی صبح کا نظارہ کر لو جو دلوں کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور کی برکت سے ایمان کا حسن اور تقوی کا زیور عطا کرتی ہے ۔ وقتی وحشت تو رکن شامی کی زیارت سے دور ہوگئی ہے مگر دارین کی وحشت کو دور کرنے کے لیے اور دائمی سکون قلب کے لیے مدینہ کی حاضری اکسیر اعظم(حصول مقصد کے لیے نہایت مؤثر) ہے۔

Verse 3:

آب زم زم تو پیا خوب بجھائیں پیاسیں
آؤ جود شہ کوثر کا بھی دریا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ جود (کرم ، بخشش ، عطا) ، ٭ شہ کوثر (حوض کوثر کا مالک ،بادشاہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

تشریح:
اے زائرین حرم ! تم نے مکہ مکرمہ میں آب زم زم پی کر خوب پیاس بجھائی اور اپنے دل اور جان کو ٹھنڈا کیا ، روح کو ستھرا کیا بہت اچھا کیا، لیکل اب یہاں ہی نہ بیٹھے رہو چلو مدینہ چلو اور وہاں جا کر دیکھو مالک کوثر مصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کرم کا سمندر کیسے ٹھاٹھیں مار رہا ہے ۔ آپ کی بارگاہ سے بھیک بھی ملے گی اور ساتھ دعا بھی ملے گی ، کائنات کی ہر نعمت حصور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کرم سے ملے گی ۔ مغفرت کا سامان بھی ہو گا وہاں اور محبوب کی شفاعت بھی نصیب ہو گی ۔اور جھولیاں بھر جائیں گی تمہاری کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قطرہ قطرہ نہیں دیتے بلکہ نعمتوں کی برسات کرتے ہیں ، عطاؤں کے دریا بہاتے ہیں۔خدا کی قسم! اتنا عطا کرتے ہیں کہ کچھ کمی نہیں رہتی۔

Verse 4:

زیر میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابر رحمت کا یہاں روز برسنا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ زیر میزاب (میزاب کے نیچے) ، ٭ میزاب (خانہ کعبہ کا پرنالہ جسے میزاب رحمت بھی کہتے ہیں) ، ٭ روز برسنا (روزانہ بارش ہونا)

تشریح:
میزاب رحمت جو خانہ کعبہ کا رحمت والا پرنالہ ہے جب بارش ہوتی ہے تو حجاج کرام اس کے نیچے آ جاتے ہیں تا کہ کرم کے چھینٹے اور کرم کے قطرے ان پر پڑ جائیں اور ان کو یہ سعادت نصیب ہو جاۓ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب بارش ہو وہاں ۔ اور بارش تو کبھی کبار ہوتی ہے ۔تو اے حجاج کرام تم نے زیر میزاب کرم کے چھینٹے لے تو لیے اور وہ بھی قطرہ قطرہ نصیب میں آۓ تمہارے ۔ اب مدینہ کو چلو وہاں چل کر دیکھو۔ وہاں تو ہر وقت ،دن ہو یا رات ہو ، صبح ہو یا شام ہو غرض کہ ہر لمحہ رحمت خداوندی کی بارش چھما چھم برس رہی ہے اور کیوں نہ ہو ، وہاں خدا کے محبوب کا دربار گوہر بار موجود ہے وہ محبوب جس کو ساری کائنات بلکہ دوجہانوں کے لیے رحمت بنایا، ورفعنا کا تاج اس کے سر پر سجایا ، محبوب کیا مالک و مختار بنایا ، مومنین کے دلوں کا سرور بنایا، جس کو یہ حکم فرمایا کہ منگتا تمہاری بارگاہ میں آے تو جھڑکنا مت،جس کی دعا کو مومنین کے دل کا چین قرار دیا۔ وہاں پر رب کی عنایتوں ، رحمتوں اور کرم کا عالم کیا ہو گا؟

Verse 5:

دھوم دیکھی ہے در کعبہ پہ بیتابوں کی
ان کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ دھوم (ہلچل، زور و شور ، ہجوم) ، ٭ بیتاب (بے قرار) ، مشتاق (طالب، وہ جسے شوق ہو) ، ٭ حسرت (آرزو)

تشریح:
اے حاجیو! تم نے در کعبہ پہ عشاق کو کیسے بے تاب و بے قرار ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے دیکھا ؟ ایک بے خودی اور وارفتگی کی دھوم دھام اور ہلچل وہاں تھی۔تو اب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے در پر چلو اور دیکھو کے سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیوانے کس طرح در اقدس پر حسرت دیدار اور شوق و آرزو میں کس طرح تڑپ رہے ہیں اور بعض خوش نصیب مراد ملنے پر کیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت پر مچل رہے ہیں

Verse 6:

مثل پروانہ پھرا کرتے تھے جس شمع کے گرد
اپنی اس شمع کو پروانہ یہاں کا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ پروانہ (پتنگا ، چراغ پر جلنے والا کیڑا) ، ٭ شمع (موم بتی)، ٭ گرد (چاروں اطراف)

تشریح:
اے حجاج کرام! تم خانہ کعبہ کے گرد کس قدر شوق و وارفتگی کے ساتھ طواف کرتے تھے اوراس شمع (خانہ کعبہ شریف) پر پروانوں کی طرح قربان ہو رہے ہوتے تھے چلو مدینہ چل کر دیکھو تمہاری یہی شمع کس طرح ،کس محبت و وارفتگی اور شوق سے جمال مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروانہ بنی ہوئی ہے اور کس محبت سے قربان ہو رہی ہے۔
اس شوق و وارفتگی کا نظارہ لینا ہو تو سیرت حلبیہ کی یہ روایت ملاحظہ فرمائیں
“حضور علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو کعبہ شریف (خوشی میں وجد کرتا ہوا) تین دن اور تین رات حرکت کرتا (جھومتا) رہا”

Verse 7:

خوب آنکھو سے لگایا ہے غلاف کعبہ
قصر محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ قصر محبوب (اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا محل مبارک) ، ٭ جلوہ (ںورانیت)

تشریح:
اے حاجیو! تم نے غلاف کعبہ کو آنکھو سے لگا کر خوف خدا میں خوب رو رو کر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور اپنے گناہوں سے توبہ کی ، اب مدینہ شریف جا کر دیکھو کہ محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عالیشان محل کا پردہ کتنا خوبصورت ، کس قدر برکتوں سے بھرپور ،اللہ کی رحمتوں میں شرابور ہے ، اس کی نورانیت کے جلوے لو اور اس کے ساۓ میں عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چمک کے مزے لو اور خوب وصل محبوب کی نعمت کی برکتیں سمیٹو۔
Verse 8:

واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ واں (وہاں کا مخفف) ، ٭ مطیعوں (تابعداروں ، نیک لوگ) ، ٭ سیہ کاروں (گناہ گاروں)

تشریح:
اس شعر میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ مدینہ شریف حاضری کی برکتیں سمجھا رہے ہیں۔فرماتے ہیں وہاں مکہ میں بڑے بڑے نیک لوگوں ، تابعدار و اطاعت شعار لوگوں کو، اس خیال سے کہ یہاں ایک گناہ ہو گیا تو ایک لاکھ لکھ دیا جاۓ گا، خوف خدا سے کانپتے دیکھا اور خوف خدا سے ان کا جگر پانی پانی ہو رہا تھا مگر مدینہ شریف کی شان ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں مدینہ شریف میں گناہگار لوگ بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحمت کے سہارے مچل رہے ہیں ۔شرمساری پر امید کرم کا غلبہ ہے اور اس لیے بھی خوشی سے مچل رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ شامت نفس کی وجہ سے گناہ ہو بھی گیا تو ایک ہی لکھا جاۓ گا جب کے ایک نیکی کی پچاس ہزار لکھی جائیں گی ۔بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعا کے مطابق کہ” اے اللہ جتنی برکت تو نے ابراہیم علیہ سلام کی وجہ سے مکے میں ڈالی میری دعا کی وجہ سے اس سے دگنی برکت مدینہ میں ڈال دے ” دو لاکھ ملیں کیونکہ مکے میں ایک لاکھ اور اس کا ڈبل دو لاکھ ہی تو بنتا ہے ۔ یا رہیں پچاس ہزار ہی مگر یہ پچاس ہزار دو لاکھ پر بھاری ہوں

Verse 9:

اولین خانہء حق کی ضیائیں دیکھیں
آخریں بیت نبی کا بھی تجلا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ اولین (پہلے) ، ٭ آخریں (اب بعد میں) ، بیت نبی (نبی کا گھر صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ، ٭ تجلا (ںور)

تشریح:
اے حجاج کرام ! پہلے تم نے حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی وہاں خوب خوب اللہ کی رحمتوں کی ، اللہ کے انوار تجلیات کی برکتیں لوٹیں ، اب اس کے بعد خصور سید عالم ، جان رحمت ، سرور کون صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر گنبد خضری کے نور سے دلوں کو منور کرو اور گنبد خضری کی شان و عظمت کے جلوے دیکھو کہ اللہ نے اس کی شان کیسے بلند کی ہے اور کیسے یہاں پر آنے والوں کو محبوب کے گھر کی نسبت کی وجہ سے نوازتا ہے اور کیا نعمت ہے جو یہاں سے ملتی نہیں۔سب کچھ ہی تو یہاں سے ملتا ہے

Verse 10:

زینت کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ
جلوہ فرما یہاں کونین کا دولھا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ عروسوں (عروس کی جمع یعنی دلہن) ، ٭ بناؤ (آرائش و زیبائش ) ، ٭ کونین (دنیا و آخرت)

تشریح:
بے شک کعبہ معظمہ کی زیب و زینت میں لاکھوں دلہنوں کا بناؤ سنگھار اور حسن و جمال ہے لیکن دلہن کے دولھا نہ ہو تو دلہن کس کام کی اور اگر دو جہان کا دولھا دیکھنا ہو تو وہ مدینہ شریف میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جلوہ فرما ہے اور وہ دلھا بھی کس شان و عظمت والا کہ جس کے صدقے کعبہ لاکھ دلہنوں سے ذیادہ حسن و جمال والا بنا تو جس کا صدقہ اتنا خوبصورت ہے تو اس کا دربار گوہر بار کس قدر خبصورت ہوگا اس کے نظارے تمہیں مدینہ شریف میں نظر آئیں گے۔

Verse 11:

ایمن طور کا تھا رکن یمانی میں فروغ
شعلہء طور یہاں انجمن آرا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ ایمن طور (طور پہاڑ کی امن والی وادی)، ٭ رکن یمانی (ملک یمن کی جانب والا خانہ کعبہ کا کونہ) ، ٭ فروغ (رونق ، عزت) ، ٭ شعلہ (جلوہ) ،٭ انجمن آرا (رونق محفل)

تشریح:
اے حجاج کرام! رکن یمانی میں تم نے طور پہاڑ کی امن والی وادی جیسی پاکیزگی ، برکتیں اور تجلیاں دیکھیں اور حاصل کی ،اب مدینہ منورہ بھی آؤ اور دیکھو کہ جس جلوے کی وجہ سے طور امن والی وادی بنا اور موسی علیہ السلام اس جلوے کی تاب نہ لا کر بے حوش ہو گۓ تھے خود اس جلوے کا ایک شعلہ (جلوہ) مدینہ شریف میں رونق محفل بنا ہوا ہے تو یہاں برکتوں، رحمتوں اور نعمتوں کا عالم کیا ہو گا اور تم یہاں سے کون سی نعمت ہے جو نہیں پا سکو گے۔

Verse 12:

مہر مادر کا مزہ دیتی ہے آغوش حطیم
جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ مہر مادر (ماں کی گود) ، ٭ آغوش (گود) ، ٭ حطیم (کعبہ معظمہ کا وہ حصہ جس پر میزاب رحمت گرتا ہے) ، ٭ فدا (قربان) ، ٭ یاں (یہاں)

تشریح:
اے حاجیو! اگر حطیم کی گود میں پہنچ کر تمہیں ماں کی گود میں پہنچ جانے جیسا سکون ملتا ہے تو مدینہ شریف میں وہ پاکیزہ ہستی تشریف فرما ہیں جن کی عزت و عظمت ، شان و شوکت اور جن کے نام پر تمام مومنین اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں اس پاکیزہ ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کرم کا کیا عالم ہوگا جن کے پاکیزہ دل میں ہزاروں ماں باپ سے ذیادہ ہمارے لیے محبت اور لطف و کرم ہے ۔ چلو آؤ مدینہ شریف ميں ان کا شان کرم دیکھتے ہیں اور برکتیں لوٹتے ہیں ۔

Verse 13:

عرض حاجت میں رہا کعبہ کفیل الحجاج
آؤ اب داد رسیء شہ طیبہ دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ عرض (گذارش کرنا)، ٭ کفیل الحجاج (حاجیو کا کفیل و ضامن) ، ٭ دادرسی (انصاف کرنا) ، ٭ شہ طیبہ (مدینہ شریف کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حاجت (ضرورت)

تشریح:
کعبہ شریف حجاج کرام کی حاجات کا ضامن بنا رہا اور اس نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں زائرین کی حاجات کو خوب پیش کیا اب مدینہ شریف چلو اور محبوب علیہ السلام کو اپنی حاجتوں کا ضامن بناؤ پھر دیکھو کس کی ضمانت پہلے درجہ قبولیت کو پہنچتی ہے۔تم خود کہو گے کہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بس ہاتھ اٹھانے کی دیر تھی اللہ نے جھولیاں بھر دی۔

Verse 14:

دھو چکا ظلمت دل بوسہء سنگ اسود
خاک بوسیء مدینہ کا بھی رتبہ دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ ظلمت ( گناہوں کی سیاہی) ، ٭ سنگ اسود (سیاہ پتھر جو دیوار کعبہ میں نصب ہے)، ٭ خاک بوسی (مٹی کو چومنا) ،٭ رتبہ (شان و عظمت)

تشریح:
اے حاجیو ! مانا کہ تم نے سنگ اسود کو چوما تو اس سے تمہارے دل سے گناہوں کی سیاہی مٹ گئ ،اب مدینہ شریف چلو اور وہاں کی خاک کو چوم کر دیکھو تمہیں کیا کیا برکتیں نصیب ہوں گی۔ تمہارا مقدر چمک جاۓ گا ۔مدینہ شریف کی خاک مبارک کی شان و عظمت کس قدر ہے اور کیا کیا نعمتیں تمہیں نصیب بنیں گی چومنے سے تمہیں اندازہ ہو جاۓ گا۔

Verse 15:

کر چکی رفعت کعبہ پر نظر پروازیں
ٹوپی اب تھام کے خاک در والا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ رفعت (بلندی) ، ٭ در والا (یلند شان والا دروازہ) ، ٹوپی تھام کر ( سنبھل کر)

تشریح:
اے حجاج کرام ! تم نے حج کے دوران بار بار کعبہ شریف کا دیدار کیا بار بار دیدار کعبہ سے مشرف ہوتے رہے تمہاری نظر میں خانہ کعبہ کی شان و عظمت کی بلندی برکتیں لوٹا رہی ہے یہ سعادت کی بات ہے ۔ اب اگر مدینہ شریف کا رتبہ دیکھنا ہے تو تم اس بات سے اندازا کر لو کہ مدینہ شریف کی خاک کی شان و عظمت کی بلندی دیکھنے کے لیے تمہیں سنبھلنا پڑے گا کیونکہ جس چیز کی شان ذیادہ ہوتی ہے اس کا ادب بھی ذیادہ کرنا پڑتا ہے اور کہیں بے ادبی نہ ہو جاۓ اس لیے محتاط بھی بہت ذیادہ ہونا پڑتا ہے۔
( اعلی حضرت نے اس شعر میں ٹوپی تھامنے کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ یہ کلیہ ہے کہ جب بلند بالا ٹاور کی بنیاد میں آپ کھڑے ہو کر اس کی قامت دیکھنا چاہیں تو آپ کو اوپر کو دیکھنا پڑے گا اور جس سے سر پہ پہنی ہوئی ٹوپی اگر تھامیں نہ تو وہ نیچے گر جاتی ہے اور مدینے کی خاک کا رتبہ بتانے کے لیے کہ اسی طرح اس خاک پاک کی بلندی کو دیکھنے کے لیے تمہیں ٹوپی کو تھامنا پڑے گا)

Verse 16:

بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جوش رحمت پہ یہاں ناز گنہ کا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ طاعت (بندگی) ، ٭ گنہ (گناہ)

تشریح:
اللہ بے نیاز ہے اور اسکی بے نیازی کی صفت بیت اللہ شریف میں بھی نمایاں نظر آتی ہے اس لیے بڑے بڑے اطاعت شعار و عبادت گزار اس خیال سے کانپتے دیکھے گۓ کہ کہیں ہماری عبادتیں اللہ کی بے نیازی کی نظر نہ ہو جائیں اور سبحان اللہ حاجیو ! ذرا مدینہ شریف آ کر دیکھو ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کا دریا اپنے پورے شباب اور جوش پر ہے۔ گناہ گار ، رحمت پروردگار جناب رحمۃاللعلمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان رحمت پر ناز کر رہے ہیں کہ شامت نفس کی وجہ سے گناہ کر تو بیٹھے لیکن شفاعت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو گناہگاروں کے لیے ہے۔

Verse 17:

جمعہ مکہ تھا عید اہل عبادت کے لیے
مجرمو آؤ یہاں عید دو شنبہ دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ عید (خوشی) ، ٭ دو شنبہ (پیر کا دن ، جس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی)

تشریح:
عبادت گزاروں کے لیے مکہ شریف میں جمعہ کا دن عید سے کم نہ تھا ، اے گناہ گارو ! مدینہ شریف آؤ اور یہاں آکر حضور صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت والے پیر شریف کے دن کی عید کا مزہ لو کیونکہ اسی ولادت والے دن کی وجہ سے جمعہ ملا ،عید ملی ، رمضان ملا ، ایمان ملا ، بلکہ خود رب رحمان ملا ۔

اس دن کی عظمت کے کیا کہنے اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو تو کچھ نہ ہوتا ۔۔ اس دن کی عزت تو سب عیدوں کی عزت سے ذیادہ ہے کیونکہ وہ سب اس کا صدقہ ہیں

Verse 18:

ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں
ادب و شوق کا یاں باہم الجھنا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ ملتزم (حجر اسود اور بیت اللہ شریف کے دروازے کے درمیان کا حصہ جہاں لپٹ کر دیا مانگنا مسنون ہے ) ، ٭ ارمان (خواہش ، آرزو)، ٭ باہم (آپس میں) ، ٭ الجھنا (جھگڑنا)

تشریح:
اے حجاج کرام ! تم نے ملتزم سے لپٹ کر خوب رو رو کر اپنے دل کے ارمان اور حسرتیں نکال لیں اللہ قبول فرماۓ ۔ اب میرے بات مانو ! مدینے چلو اور وہاں جا کر دیکھو کہ شوق اور ادب کیے آپس میں یہاں الجھ رہے ہیں ،شوق اور ادب کا باہم الجھنا تمہارے اندر عشق کا طوفان برپا کر دے گا اور کیا لطف آۓ گا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ شوق کہتا ہے کہ اللہ کے محبوب کی اتنی تعظیم کروں کے تعظیم میں سجدہ کر دوں مگر ادب کہتا ہے کہ ان کو سجدہ کرنا بے ادبی ہے اور یہ تعظیم نہیں کیونکہ محبوب نے اس سے منع فرمایا ہے ، اور محبوب کی بات نہ ماننا عشق نہیں ، تعظیم نہیں ، تعظیم تو یہ ہے کہ محبوب کہ ہر حکم پر سر خم تسلیم کر دو ، شوق کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ پاک کی جالی کو محبت میں چھو لوں ، بوسہ لے لوں ، مگر ادب یہ کہتا ہے کہ کہاں وہ پاکیزہ جالیاں اور کہاں تیرا گندہ وجود ، تو گناہوں سے لت پت اور وہ عرش سے عالی جالیاں۔ خبردار قریب بھی نہ جانا ۔
اسی منظر کو برادر اعلی حضرت جناب حسن رضا حان بریلوی رضی اللہ عنہ نے بوں بیان کیا

{ شوق و آداب بہم گرم کشاکش رہتے
عشق گم کردہ توان عقل سے الجھا کرتا

بیخودانہ کبھی سجدہ میں سوۓ در گرتا
جانب قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوش جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

کبھی رحمت کے تصور سے ہنسی آجاتی
پاس آداب کبھی ہونٹوں کو بخیا کرتا }

Verse 19:

خوب مسعی میں باامید صفا دوڑ لیے
رہ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ مسعی (صفا مروہ کا درمیانی حصہ جہاں دوڑا جاتا ہے) ، ٭ صفا ( صفائی ، پاکیزگی) ، ٭ رہ جاناں (محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ اورگزرگاہ)

تشریح:
اے حجاج کرام ! تم نے صفا مروہ کے درمیاں خوب چکر لگاۓ اس امید پر کے گناہوں سے پاک ہو جاؤ، دل کی پاکیزگی حاصل ہو جاۓ اب مدینہ شریف چلو اور وہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گزرگاہ میں چل کر دیکو بیٹھ کر دیکھو ، وہاں ریاض الجنۃ ہے جہاں بیٹھنا گويا جنت میں بیٹھنا ہے ،مطلب وہاں مدینہ شریف میں اپنی زندگی میں تمہیں جنت ميں بیٹھنے کا انعام ملے گا ۔ ورنہ جنت تو مرنے کا بعد ملتی ہے۔ یہ مدینہ شریف کی صفا کا ثمر ہے ۔ یہاں دل بھی صاف ہوگا ، جنت بھی ملے گی ،شفاعت بھی ملے گی ، اور نعمتیں بھی ملیں گی ۔

Verse 20:

رقص بسمل کی بہاریں تو منی میں دیکھیں
دل خوں نابہ فشاں کا بھی پڑپنا دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ رقص بسمل (زخمی و بےقرار دل کا تڑپنا) ، ٭ منی (مکہ شریف کے قریب ایک میدان جہاں حجاج کرام قربانی کرتے ہیں اور شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں) ، ٭خوں نابہ ( خون کے آنسو) ، ٭ فشاں (جھاڑنا)

تشریح:
اے حجاج کرام ! تم نے منی میں قربانی کی اور خوب ثواب کمایا اور جانوروں کو قربانی کے دوراں خون میں لت پت پڑپتے دیکھا ۔ اب مدینہ شریف چلو اور وہاں دیکھو کے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح عشاق وصل محبوب کی خوشی میں آنکھو سے آنسو بہاتے ہیں کہ حاضری کی بہت بڑی خواہش اللہ نے پوری فرمائی اور ساتھ ہی پھر جدا ہو جانے کے خوف سے کس طرح ان کے دل تڑپتے ہیں اور خون کے آنسو روتے ہیں ۔۔ کہ کچھ دیر کا شرف اور پھر لمبی جدائی ۔۔ پتا نہیں پھر قسمت میڑ محبوب کے در کی حاضری ہے بھی کہ نہیں بس دل چاہ رہا ہوتا ہے کہ کاش یہیں محبوب کے قدموں ميں موت آ جاۓ اور ہم قربان ہو جائیں محبوب پر ۔۔۔۔ گویا کہ وہاں مکہ شریف میں تم نے جانوروں کو قربان ہوتے تڑپتے دیکھا اور یہاں مدینہ شریف ميں دیکھو عاشق تڑپ رہے ہیں اور قربان ہو رہے ہیں۔

Verse 21:

غور سے سن تو رضا کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو

مشکل الفاظ کے معنی:
٭ صدا (آواز کی گونج)

تشریح:
اے احمد رضا ! ان حاجیو کو بتا کہ اگر تمہیں مجھ (احمد رضا) کی بات کی سمجھ نہیں آ رہی تو کعبہ کی صدا سن لو کعبہ کا پرنالے کا رخ مدینہ شریف کی طرف ہے گویا کہ وہ زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے مدینہ شریف جاؤ ، میری آنکھوں کا اشارہ سمجھو ،جاؤ مدینہ شریف میں روضہ رسول کی زیارت کرو کیونکہ میری شان و عظمت بھی اس محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہے


طالب دعا و طالب غم مدینہ
سگ بارگاہ غوث و رضا
ڈاکٹر صفدر علی قادری

2 Comments


Leave a Reply


  1. TAHIR AFZAL MUGHAL May 8, 2018
  2. blank Muhammad Shapeer Raza Shaikh May 10, 2020

Leave a Reply

Send this to a friend